حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جنگ بندی کے اختتام سے چند گھنٹے پہلے صورتحال ایک بار پھر حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے اسی وقت تیار ہوگا جب خلیج فارس میں امریکہ کی جانب سے عائد سمندری محاصرہ ختم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ پیغام باقاعدہ طور پر ثالث ممالک تک پہنچا دیا گیا ہے، اور اسی شرط پر اسلام آباد میں مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکے گا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ ڈیلی بیسٹ نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ ایک آسان فتح چاہتے تھے، لیکن نتیجے میں ایران خطے میں ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ سابق امریکی عہدیدار ایلن آئیری نے بھی کہا کہ زمینی حقیقت اور سوشل میڈیا کے بیانات میں فرق ہوتا ہے، اور آبنائے ہرمز اس وقت تک کھلی نہیں رہے گی جب تک ایران اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔
امریکہ کے اندر بھی اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کی جان خطرے میں ڈال کر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
اسی دوران ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازع دعویٰ سامنے آیا، جس میں انہوں نے ایران میں آٹھ خواتین کی ممکنہ سزائے موت کا ذکر کیا۔ تاہم بعد ازاں مختلف ذرائع سے واضح ہوا کہ ان میں سے بعض خواتین پہلے ہی رہا ہو چکی ہیں جبکہ دیگر کو زیادہ سے زیادہ قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے، سزائے موت کا نہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز The New York Times نے بھی اپنی رپورٹ میں اس تضاد کو مذاکرات کے لیے رکاوٹ قرار دیا ہے۔
علاقائی سطح پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے جنوبی لبنان میں کسی بھی نئی حد بندی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے قبضہ جاری رکھا تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری طرف ایران میں معمولات زندگی بتدریج بحال ہونے لگے ہیں۔ قومی ایئر لائن نے 50 روز بعد اندرونِ ملک پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جنگ کے دوران عوام کی جانب سے خون کے عطیات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کم از کم 26 ایرانی جہاز امریکی محاصرے کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی منڈی پر اس بحران کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال یہ بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اصل تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہے اور اگر ایران کی شرائط پوری نہ ہوئیں تو ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو خطے اور عالمی معیشت دونوں پر اثر انداز ہوگا۔









آپ کا تبصرہ